6 جولائی 2011 - 19:30

کاروان آزادی دو میں شامل سویڈن اور ناروے کا بحری جہاز غزہ کے محاصرہ شدہ علاقے کی جانب روانہ ہو گيا ہے ۔

ابنا: کاروان آزادی دو اتحاد کے ایک بانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس بحری جہاز میں سویڈن کے ایک رکن پارلیمنٹ امین جابر سمیت انسانی حقوق کے لۓ کام کرنے والے متعدد کارکن شامل ہیں۔ یہ بحری جہاز بدھ کے دن سہ پہر کے وقت یونان کی بندرگاہ سے ایک اور مقام پر منتقل ہوگيا تھا تاکہ الوداعی تقریب کے بعد غزہ کی جانب اپنے سفر کا آغاز کرسکے۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گيا ہےکہ صہیونی خفیہ ایجنسی موساد سے وابستہ عناصر کی جانب سے اس بحری جہاز میں جو فنی خرابی پیدا کردی گئي تھی اس کو دور کردیا گيا ہے۔دوسری جانب غزہ کے لۓ امدادی سامان لے جانے والے کاروان کے ایک منتظم نے یونان کے ساحلی گارڈ کی جانب سے کاروان آزادی دو کے فرانسیسی بحری جہاز کے روکے جانےکی تصدیق کر دی ہے۔ فرانسیسی بحری جہاز ایندھن لینے کے لۓ جزیرۂ کرت میں سیتیا شہر کے قریب رکا تھا اور اسے اس جزیرے کے ساحلی گارڈ نے روک لیا۔ اس بحری جہاز میں بارہ افراد سوار تھے اور بحری جہازوں کے غزہ کی جانب کی جانے پر پابندی کے باوجود یہ بحری جہاز منگل کے دن یونان سے خارج ہوگیا تھا جزیرہ کرت کے ساحلی گارڈ نے پیر کے دن بھی تحریر نامی ایک بحری جہاز کو روک لیا تھا اس بحری جہاز میں کینیڈا ، بلجیئم ، اٹلی ، سویڈن اور ترکی سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکن اور سوشل ورکرز سوار ہیں اور یہ بحری جہاز غزہ پٹی کے فلسطینیوں کے لۓ کافی مقدار میں ادویات لے کر جانا چاہتا تھا ۔پروگرام کے مطابق دنیا کے بائیس ممالک کے بارہ بحری جہازوں اور انسانی حقوق کے لۓ کام کرنے والے تین سو پچاس افراد پر مشتمل کاروان آزادی دو کو اس علاقے کے سمندری محاصرے کے خاتمے کے مقصد سے غزہ کی جانب روانہ ہونا تھا لیکن اس کاروان کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے ۔دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ عرب ڈاکٹروں کی یونین کا ایک کاروان ادویات لے کر غزہ پہنچ گيا ہے۔ فلسطین کی خبررساں ایجنسی کے مطابق یہ کاروان رفح پاس سے غزہ میں داخل ہوا ہے ۔ عرب ڈاکٹروں کی یونین کی امدادی کمیٹی کے سیکرٹری جنرل ابراہیم زعفرانی نے کہا ہے کہ اس امداد کا مقصد عزت و وقار کے دفاع کے سلسلے میں غزہ پٹی کے فلسطینیوں کی استقامت اور ثابت قدمی کو تقویت پہنچانا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169